نئی دہلی،7؍ستمبر(ایس او نیوز)5 ستمبر کو کرناٹک کےصدر مقام بنگلور میں سینئر خاتون صحافی گوری لنکیش کو ان کے گھر کے باہر ہی کچھ نامعلوم حملہ آوروں نے گولیوں سے بھونتے ہوئے قتل کرڈالا تھا، جس کے بعد نیشنل میڈیا کے ساتھ ساتھ سوشیل میڈیا میں بھی ہنگامہ مچا ہوا ہے ۔ اس معاملے میں بحث تب مزید بڑھ گئی جب ٹوئیٹر پر کچھ لوگ گوری لنکیش کے قتل کو صحیح ٹہراتے ہوئے اُن کے بارے میں قابل اعتراض اور غیر انسانی لہجوں کا استعمال کیا ۔حیرت کی بات یہ ہے کہ مودی کے ایک بھگت نکھل دھڈیجنے اپنے ٹوئیٹر اکائونٹ میں گوری لنکیش کے قتل کو نہ صرف صحیح ٹھہرایا ، بلکہ اس کے قتل کو "کتیا کی موت " قرار دیا، تعجب کی بات یہ ہے کہ اس بھکت کو ملک کے وزیر اعظم نریندر مودی بھی فالو کرتے ہیں۔
اس واقعے کے سامنے آنے کے بعد بہت سے سوشل میڈیا صارفین نے پی ایم مودی پر نشانہ لگاتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ایسے لوگوں کو بڑھاوا دے رہے ہیں۔
واضح رہے کہ یہ ٹوئٹ وائرل ہونے کے بعد نکھل نے اپنا ٹویٹ ڈیلیٹ کر دیا لیکن اس کے ٹویٹ کا اسکرین شاٹ سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا۔ اب خبر یہ ہے کہ نکھل کے ساتھ بڑے بی جے پی لیڈران کی کچھ تصاویر بھی وائرل ہو رہی ہیں۔

تصویروں میں نکھل مرکزی سائنس اور ٹیکنالوجی کے وزیر ڈاکٹر ہرش وردھن کے ساتھ نظر آ رہا ہے، تو دوسری تصویر میں معلومات اور نشریاتی وزیر اسمرتی ایرانی کے ساتھ بھی کھڑا ہے ایک اور تصویر میں وہ دہلی ایم پی اور دہلی بی جے پی صدر منوج تیواری کے ساتھ بھی کھڑاہے۔
نکھل نے جو ٹویٹ ڈیلیٹ کیا ہے اُس میں اس نے کچھ ایسا لکھا تھا: ایک کُتیا، کتے کی موت کیا مری، سارے پِلّے ایک سُر میں بلبلا رہے ہیں۔